ترجمہ و ترتیب: مولانا گلزار جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی|
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے واقعۂ کربلا کے بعد ظلم کے مقابلے میں صرف خطبوں، دعاؤں اور عبادتوں ہی کو اپنا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ ایک ایسا مؤثر اسلوب بھی اختیار کیا جس نے صدیوں کے فاصلے مٹا دیے اور ہر زمانے میں عاشقانِ حسینؑ کے دلوں کو ایک مرکز پر جمع کر دیا۔ یہ اسلوب شعائرِ حسینی کا اقیام اور ان کی دائمی حفاظت تھا۔ درحقیقت شعائر وہ روشن مینار ہیں جو تاریخ کی تاریک راتوں میں حق کے مسافروں کو منزل کا راستہ دکھاتے ہیں، اور انہی میناروں میں سب سے درخشاں چراغ زیارتِ اربعین ہے۔
جب یزیدی قید و بند کی زنجیریں ٹوٹیں اور دمشق سے اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کو مدینہ واپس جانے کی اجازت ملی تو امام سجاد علیہ السلام نے سیدھا مدینہ کا رخ نہیں فرمایا، بلکہ پہلے عراق کی سرزمین کا انتخاب کیا، تاکہ کربلا پہنچ کر اپنے بابا حضرت امام حسین علیہ السلام کے مزارِ اقدس پر حاضری دیں۔ یوں اربعین کا یہ روح پرور سفر صرف ایک زیارت نہ رہا بلکہ وفا، شعور، مزاحمت اور پیغامِ عاشورا کی ابدی تجدید بن گیا۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر آج کروڑوں قدم عشق کے چراغ اٹھائے نجف سے کربلا تک رواں دواں دکھائی دیتے ہیں، گویا ہر قدم یہ اعلان کرتا ہے کہ نیزے سر جھکا سکتے ہیں، مگر حسینؑ کی یاد کو کبھی مٹا نہیں سکتے۔
امام سجاد علیہ السلام کی پوری حیات اس حقیقت کی شاہد ہے کہ آپ ہر موقع، ہر لمحے اور ہر کیفیت کو مجلسِ حسینؑ میں بدل دیتے تھے۔ جہاں کسی کے دل میں غفلت کی گرد دکھائی دیتی، وہاں آپ ذکرِ کربلا کی بارش برسا دیتے۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ قصابوں کے بازار سے گزرے تو ایک قصاب اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا: "کیا تم نے اس بھیڑ کو پانی پلا دیا ہے؟" یہ جملہ سنتے ہی امام سجاد علیہ السلام کے دل کے زخم تازہ ہوگئے۔ آپ نے فرمایا کہ میرے بابا حسینؑ کو تو پانی سے محروم رکھ کر ذبح کیا گیا تھا۔ یوں ایک معمولی سا منظر لمحوں میں مجلسِ عزا میں تبدیل ہوگیا اور بازار کے شور میں کربلا کی پیاس بولنے لگی۔
آپ بارہا فرمایا کرتے تھے: "خدا کی قسم! جب بھی میں اپنی پھوپھیوں اور بہنوں کی طرف دیکھتا ہوں تو رنج و غم میرے گلے میں اٹک جاتا ہے۔" پھر آپ کی نگاہوں کے سامنے عاشورا کی وہ شام گردش کرنے لگتی، جب آلِ رسولؐ کی مخدرات ایک خیمے سے دوسرے خیمے اور ایک پردے سے دوسرے پردے کی طرف پناہ ڈھونڈ رہی تھیں، جبکہ دشمن کا منادی پکار رہا تھا: "ظالموں کے گھروں کو آگ لگا دو!" اللہ کی لعنت ہو ان ظالموں پر جنہوں نے اہلِ بیتِ رسول علیہم السلام پر ظلم کی بنیاد رکھی اور انسانیت کے ماتھے پر سیاہ داغ ثبت کیا۔
یہی امام سجاد علیہ السلام کی حکمت تھی۔ آپ نے آنسوؤں کو کمزوری نہیں، شعور کی زبان بنایا؛ ماتم کو مایوسی نہیں، مزاحمت کی صدا بنایا؛ اور زیارتِ اربعین کو محض ایک سفر نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان کھینچی ہوئی وہ روشن لکیر بنا دیا جسے زمانے کی کوئی آندھی مٹا نہیں سکتی۔ آج نجف سے کربلا تک اٹھنے والا ہر قدم، ہر لبیک، ہر اشک اور ہر سلام دراصل اسی حسینی مکتب کی بقا کا اعلان ہے جس کی بنیاد امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے صبر، اپنی حکمت اور اپنی استقامت سے استوار کی۔
اربعین اس حقیقت کا زندہ استعارہ ہے کہ شہید کا خون اگر زمین پر گرتا ہے تو اس کی یاد زمانے کے دلوں میں اگتی ہے۔ کربلا کی خاک پر چلنے والے یہ کروڑوں قدم دراصل اس عہد کی تجدید ہیں کہ ظلم کی تلواریں جسموں کو زخمی کر سکتی ہیں، مگر شعائرِ حسینی کے چراغ کبھی گل نہیں کر سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ اربعین آج بھی باطل کے لیے خوف کی علامت اور اہلِ ایمان کے لیے امید، وفا، بیداری اور نصرتِ حق کا سب سے عظیم استعارہ ہے۔
بیان آیت الله العظمیٰ الشیخ محمد یعقوبی









آپ کا تبصرہ